Web Analytics
تازہ ترین خبر
ہوم / آف دی فیلڈ / جسپریت بمراکے انٹرنیشنل ڈیبیوکی حیران کن کہانی

جسپریت بمراکے انٹرنیشنل ڈیبیوکی حیران کن کہانی

زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح کرکٹ کی دُنیا بھی سینکڑوں حیران کن واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں کچھ واقعات ناخوشگوار ہیں توخوشگوار…دُنیاکے کئی معروف کھلاڑیوں کی انٹرنیشنل کرکٹ میں آمد کی انوکھی کہانیاں ہیں۔

وسیم اکرم جیسا عظیم بولر اپنے کالج کی ٹیم میں جگہ پانے سے قاصرتھا اورپاکستان ٹیم کی نیٹ پریکٹس کے دوران بال بوائے (گیند اُٹھانے والے لڑکے)کے طورپرقذافی اسٹیڈیم آیا تو اُس کی قسمت بدل گئی جسے بعدازاں کوئی فرسٹ کلاس یا اے کلاس میچ کا تجربہ نہ ہونے کے باوجود براہ راست انٹرنیشنل کرکٹ میں انٹری مل گئی۔

اس طرح انضمام الحق ڈومیسٹک کرکٹ میں رنزکے انبار لگانے کے باوجود ٹیم میں جگہ نہیں پاسکے تھے مگر مشتاق احمد کے کہنے پر عمران خان کی جانب سے لئے گئے مختصر ٹرائل نے اُن کے دن پھیر دئیے۔

ویسٹ انڈیزمیں انڈر19ٹیم کے ساتھ موجودشاہد آفریدی کو اچانک نیروبی پہنچنے کی ہدایت ملی جہاں اُس نے زخمی ہونے والے لیگ اسپنر مشتاق احمد کے متبادل کے طورپرکھیلناتھا۔ویسٹ انڈیز سے کراچی ایئرپورٹ اور پھر نیروبی کا سفرایک حیران کن واقعہ ہے۔

اس طرح موجودہ وقت میں آئی سی سی ٹوئنٹی20بولنگ رینکنگ میں دوسرے نمبرپرموجود بھارتی میڈیم پیسر جسپریت بمرا کی انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی حیران کن واقعے کی نشاندہی کرتی ہے۔عمادوسیم کے ’ٹیک اوور‘کرنے سے قبل ٹوئنٹی20 بولنگ رینکنگ میں ٹاپ پوزیشن پانے والے اس بھارتی میڈیم پیسر نے 23جنوری 2016ء کو سڈنی کے مقام پر میزبان آسٹریلیاکے خلاف ون ڈے ڈیبیوکیاتھا۔وہ یہاں تک کیسے پہنچے؟ یہ ایک اور دلچسپ الگ کہانی ہے۔

بھارتی ٹیم جب 2016ء کے آسٹریلوی ٹورپرتھی توان فٹ ہونے والے محمد شامی کی جگہ جسپریت بمراکو آسٹریلیا بھیجنے کی اپیل کی گئی ہے۔

اگرچہ بھارت میں موجودآفیشلز نے بمراکو فوری کینگروزکے دیس بھیجنے کی کوشش کی لیکن ویزہ مسائل آڑے آئے جس کے سبب وہ تاخیر سے ’کنفرم سیٹ‘ حاصل کرسکے تاہم جب جہاز میں بیٹھنے سے قبل شایدکسی کو دورے میں جسپریت بمراکے ون ڈے ڈیبیو کرنے کا امکان نظر نہیں آرہاتھا کیونکہ اُس وقت ون ڈے سیریز کا صرف ایک میچ باقی تھا۔

تاہم یہاں قسمت نے جسپریت بمراکی یاوری کی کیونکہ اُن کے آسٹریلیا پہنچنے سے قبل بھارتی ٹیم کے اہم فاسٹ بولر بھونیشورکماربھی ان فٹ ہوگئے جس کے سبب بھارتی ٹیم منیجمنٹ کو بحالت مجبوری جسپریت بمراکو میدان میں اُتارناپڑا جس کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا۔

جسپریت بمرا کیلئے انٹرنیشنل کرکٹ کیریئرشروع کرنے کیلئے یہ ہرگز آئیڈیل موقع نہ تھا کیونکہ ایک تو وہ دہلی سے سڈنی کی طویل فلائٹ پکڑ کر آیاتھا او ردوسراوہ ٹیم کے کسی ساتھی سے پہلے سے نہیں جانتا(ذاتی طورپر) تھا۔گجرات کے ٹیم میٹ اکشرپٹیل کے علاوہ سبھی ساتھی بھی اُس کیلئے اجنبی تھے۔

کھلاڑی کو اُن کے ساتھ گھلنے ملنے کیلئے چند سائیڈمیچز اور ایک ساتھ ٹریننگ اور نیٹ پریکٹس کی ضرورت پڑتی ہے تبھی جاکر کوئی کھلاڑی اعتماد حاصل کرپاتا اور پرفارم کرنے کے قابل بنتا ہے مگر جسپریت بمرا ان سبھی چیزوں سے محروم تھا۔جسے ون ڈے کیپ دیتے ہوئے کپتان مہندراسنگھ دھونی کی جانب سے صرف یہی ہدایت ملی تھی کہ ’’جیساتمہیں کھیلنا آتا ہے،ویساہی کھیلنا‘‘ جو اس بات کا اشارہ تھا کہ کپتان دھونی بھی جسپریت بمرا کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتا تھا۔

یہ ایک انوکھی صورتحال تھی۔اس قدر ٹینشن والے ماحول میں جب آسٹریلیاجیسی ٹیم کا سامناکرناہواوروہ بھی اُن کی سرزمین پر…تو معاملات کافی مشکل ہوجاتے ہیں لیکن اس موقع پر جسپریت بمرا نے شاید ’’سنگھ اِز کنگ‘‘ کی مثال ذہن میں رکھتے ہوئے ہمت نہ ہاری۔

اس میچ میں بمرانے آسٹریلوی کپتان اسٹیون اسمتھ کی وکٹ سمیت جیمز فائولکنر کو بولڈکرتے ہوئے10اوورزمیں4رنز فی اوورکے اکانومی ریٹ سے 40رنز دئیے جوحریف ٹیم کے 330/7 کے مجموعے میں کسی بھی بولر کا بہترین فیگر ہوسکتاہے۔اس میچ میں وہ سب سے کم اکانومی ریٹ سے بولنگ کرانے والا بھارتی بولر تھا۔

ون ڈے ڈیبیوکے محض تیسرے روز ہی جسپریت بمراکو ٹوئنٹی20ڈیبیوکرنے کا موقع ملا گیا جس میں اُس نے اوپنر ڈیوڈ وارنر سمیت 23رنزکے عوض تین وکٹیں حاصل کرکے اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں اہم کرداراداکیا جو اس اننگزمیں دو سے زائد وکٹیں لینے والا واحد بولر تھا۔

اگلے دو میچوں میں بالترتیب 2/37اور 1/43کی کارکردگی دکھاکر جسپریت بمرا نے تین ٹوئنٹی20میچوں کی اس سیریزمیں اپنی وکٹوں کی تعداد چھ تک پہنچادی تھی جو سیریزمیں کسی بھی بولر کی سب سے زیادہ وکٹیں تھیں۔وہ دن اور آج کا دن…جسپریت بمرا محدود اوورزکے میچوں میں بھارتی ٹیم کا لازمی جزو ہے جس کانہ صرف انٹرنیشنل کیریئرکا آغاز ہی دلچسپ اور حیران کن ہے بلکہ اُس کی زندگی کی کہانی بھی خاصی پراسرارہے جو ایک امیرخاندان سے ہوتی ہوئی انتہائی غربت کے دنوں سے گزری ہے۔جس کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتاہے کہ جسپریت بمرا کے دادا اپنا گزربسرکرنے کیلئے آج بھی رکشہ چلانے پر مجبور ہیں ۔

جسپریت بمراکی ذاتی زندگی کی کہانی پڑھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے