Web Analytics
تازہ ترین خبر
ہوم / اہم موضوعات / پاکستان ٹیم کے’’ اندر‘‘کی خبریں باہرلانے والا کون؟

پاکستان ٹیم کے’’ اندر‘‘کی خبریں باہرلانے والا کون؟

یہ بہت اہم مسئلہ ہے لیکن اس جانب کوئی توجہ تک نہیں دیتا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے اہم خبریں وقت سے پہلے باہر کیسے آجاتی ہیں اور انہیں راز میں کیوں نہیں رکھا جاتا ۔

کسی ٹیم کا اعلان ہونا ہو تو متوقع کھلاڑیوں کے نام پہلے ہی کسی اخبار کی زینت بن جاتے ہیں اور کبھی کسی کھلاڑی کیخلاف کوئی انضباطی کارروائی چل رہی ہو تو اس بارے میں سارا مواد کسی ٹی وی چینل تک جا پہنچتا ہے اور پھر اچانک وضاحتیں شروع ہو جاتی ہیں جس سے پاکستان کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے مگر اس کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں لگائی جا رہی۔

پی سی بی کے ایک آفیشل کے مطابق بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار اور سینئر کرکٹرز اپنے ذاتی مفادات کیلئے میڈیا میں موجود اپنے ’’خاص‘‘ نمائندوں کو خبریں فیڈ کرتے ہیں جس سے میرٹ پر آفیشلز اور کھلاڑی نظر انداز ہو رہے ہیں اور لوگوں تک غلط خبریں بھی پہنچ رہی ہیں۔

تازہ ترین جو خبر لیک ہوئی تھی وہ چیمپئنز ٹرافی کیلئے قومی کرکٹ ٹیم کا پندرہ رکنی اسکواڈ تھا جو سلیکشن کمیٹی کی جانب سے اعلان سے قبل ہی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں خبروں کی زینت بن چکا تھا اور یہ بات کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آ سکی کہ یہ کس کا ’’کارنامہ‘‘تھا۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پی سی بی کے سربراہ شہریار خان اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی دونوں ہی اپنے مفاد کیلئے من پسند صحافیوں کو خبریں لیک کرتے ہیں، دونوں بڑوں کے درمیان چپقلش کی وجہ سے نہ صرف بورڈ بلکہ میڈیا میں بھی گروپ بندی ہو چکی ہے جبکہ بورڈ کے دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی ان سے پیچھے نہیں رہتے جو اپنی کرسی بچانے کے چکرمیں یہی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ بعض سینئر کرکٹرز بھی جب ٹیم سے باہر ہوتے ہیں یا انہیں ڈراپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے تو وہ میڈیا کو بورڈ پر دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور بورڈ میں موجود نا اہل عہدیدار جو خود عدم تحفظ کا شکار ہیں اس پریشر میں آکر ان کے مطلوبہ مقاصد کو پورا کر دیتے ہیں اور یوں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کے ایک سابق آل راؤنڈر پر الزام ہوتا تھا کہ وہ ڈریسنگ روم کی خبروں کو میڈیا کیلئے لیک کرتے ہیں جس سے ان کو ذاتی فائدہ حاصل ہوتا تھا لیکن ان کے جانے کے بعد بھی بورڈ کی اہم خبریں لیک ہونے کا سلسلہ بغیر رُکے جاری ہے اور اس بارے میں کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا اور نہ اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ میڈیا کی جانب سے ’’سب سے پہلے‘‘کی اندھی دوڑ میں کون لوگ معاونت کر رہے ہیں اور انہیں کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

انضمام اور سرفرازاحمد، سینئرزکو کنٹرول کرنے میں کامیاب

پاکستان ٹیم میں ماضی قریب میں کپتانوں کے خلاف سینئرزکرکٹرزکی سازشیں کسی سے ڈھکی چھپی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے