Web Analytics
تازہ ترین خبر
ہوم / بلاگ / مشتاق احمد وہ کام کریں جس کی ’بھاری‘ تنخواہ لیتے ہیں

مشتاق احمد وہ کام کریں جس کی ’بھاری‘ تنخواہ لیتے ہیں

سابق کھلاڑی عام طور پر بورڈ اور اس سے منسلک شعبوں کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں لیکن اگر ان کی طرف سے خوشی کا اظہار کیا جانے لگے تو جان لیں کہ وہ کسی بھی حیثیت سے بورڈ کے ساتھ منسلک ہیں۔

قومی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے دو لیگ اسپنرز کے انوکھے کمبی نیشن پر سابق لیگ اسپنر مشتاق احمد بھی جھوم اُٹھے ہیں جن کا کہنا ہے کہ شاداب خان میں سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ہے لہٰذا یاسرشاہ کے ساتھ کھیل کر اس میں مزید بہتری آئے گی۔

گزشتہ دنوں قومی کرکٹ اکیڈمی کے ہیڈ کوچ مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ اس بات کا اندازہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ شاداب خان کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی کیسی رہے گی تاہم اس کے پاس ہر طرح کا ہتھیار موجود ہے اور پاکستان کے صف اول کے لیگ اسپنر یاسر شاہ کے ساتھ کھیل کر اس میں تیزی سے بہتری پیدا ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی اور سب کا فوکس اسی بات پر تھا کہ دو لیگ اسپنرز ایک ساتھ کیوں نہیں کھیل سکتے،جب ان کی ویری ایشنز مختلف اور دونوں ہی فتح گر ہیں تو پھر انہیں ایک ساتھ کیوں نہ آزمایا جائے۔’’ مغربی ممالک کیخلاف ون ڈے کرکٹ میں بھی دو لیگ اسپنرز اننگز کے وسط میں کارگر ثابت ہو سکتے ہیں حالانکہ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ پچاس اوورز کے میچز اور ٹیسٹ کرکٹ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ‘‘

مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ شاداب خان کے پاس ہر ورائٹی ہے اور اس نے گزشتہ کیمپ کے دوران بھی یاسر شاہ کے ساتھ کافی وقت گزارا تو اندازہ ہوا کہ وہ بات کو سننے اور سمجھنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اور یاسر شاہ کا ساتھ اس میں تیزی سے بہتری پیدا کرے گا۔

مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ یاسر شاہ نے دو سال کے عرصے میں خود کو پوری طرح منوا لیا ہے جن کا کوئی نعم البدل نہیں اور شاداب خان کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ ان سے اسی طرح سیکھنے کی کوشش کرے جیسے میں نے عبدالقادر سے بولنگ کے گر سیکھے اور پھر دانش کنیریا نے مجھ سے سیکھ کر بہترین کھیل پیش کیا۔

مصنف کا نقطہ نظرـ:
مشتاق احمد کی اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ایک وقت میں دو لیگ اسپنرز بھی ٹیم کا حصہ بن سکتے ہیں لیکن ان کا اتنا موثر ہونا ضروری ہے کہ ٹیم کو کسی اور بولر کی ضرورت ہی نہ پڑے اور مشتاق احمد یہ بات فراموش کر بیٹھے ہیں کہ انہیں بھی ماضی میں عبدالقادر کی موجودگی میں بہت زیادہ مواقع نہیں ملے تھے۔

اگر کوئی اس بات کو یاسر شاہ کی مخالفت کے زمرے میں نہ ڈالے تو ہمارا خیال یہ ہے کہ یاسر شاہ کو ابھی خود یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ یو اے ای اور پاکستان سے مختلف ماحول میں بولنگ کیسے کی جاتی ہے، نیوزی لینڈ کے بعد آسٹریلیا میں ان کی بولنگ کا جو حشر ہوا اسے ابھی لوگ فراموش نہیں کر سکے ہیں۔

مشتاق احمد کا یہ کہنا کہ ویسٹ انڈیز کی کنڈیشنز بھی یو اے ای جیسی ہیں جہاں پاکستانی اسپن اور ریورس سوئنگ بولنگ اہم کردار ادا کرے گی لیکن انہیں یہ بات بھی اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ پاکستانی اسپنرز کو ہمیشہ یو اے ای جیسا ماحول نہیں مل سکتا لہٰذا انہیں چاہئے کہ اکیڈمی میں طلب کر کے کم از کم پاکستانی لیگ اسپنرز کو تو اس قابل بنادیں کہ وہ مخالف ماحول میں بہت زیادہ کامیاب نہیں تو ایسی بولنگ تو کر سکیں کہ ان کا تمام تر اعتماد برقرار رہے۔

انہیں ایک وقت میں دو لیگ اسپنرز کی آزمائش پر جھومنے کے بجائے اب اپنا موثر کردار نبھانے کی ضرورت ہے اور اسی بات کی انہیں بھاری تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔

یہ متعلقہ مواد بھی پڑھیں

پاکستان ٹیم اور شاداب خان نے عالمی ریکارڈ توڑڈالے

پاکستان اور ویسٹ انڈیزکے درمیان پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے چوتھے ٹوئنٹی20میچ میں چند …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے